بسم اللہ الرحمن الرحیم
اگر کرپٹ اور بدماش متحد ہو سکتے ہیں
نذر حافی
چند روز پہلےاسلام آباد کے سیکٹر جی سکس تھری میں واقع کوہسار مارکیٹ میں شام کا کھانا کھانے کے بعد ریسٹورنٹ سے نکلتے ہی گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے محافظ نے گولیوں سے بھون ڈالا۔گورنر پنجاب قتل کے فورا بعد دینی و سیاسی اور علمی و فکری حلقوں میں چند احتمالات تیزی سے گردش کرنے لگے۔سب سے زیادہ احتمال یہ دیا جانے لگا کہ موصوف کا قاتل ملک ممتاز حسین قادری عشق رسول{ص}سے سرشار تھا اور اس نے سلمان تاثیر کو گستاخی رسول کرنے پر یہ سزا دی ہے،اس بات کا اظہارخود قاتل نے بھی کیا ہے۔اس رائے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانیوں کی ایک نفسیاتی کمزوری یہ ہے کہ جو شخص بھی اسلام کا نعرہ لگاتاہے ہم سوچے سمجھے اور تحقیق کئے بغیراسے اٹھا کر سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں،ہماری اس کمزوری سے سی آئی اے،امریکہ،طالبان اور ضیاء الحق جیسے لوگوں نے ہمیشہ بھرپور فائدہ اٹھایاہے۔اس کے علاوہ ایک احتمال اور بھی دیاجاتاہے کہ اسلام کو بدنام کرنے کے سلسلے میں شدّت پسندی کاجولیبل طالبان اور طالبان نواز حلقوں پر لگایا گیا تھا اب قاتل کے نام کے ساتھ لگے ہوئے لفظ "قادری" کے ذریعے اس لیبل کو قادریوں،سہروردیوں،چشتیوں اور جعفریوں پر بھی چپکانے کی کوشش کی جائے گی ۔تیسرا احتمال یہ ہے کہ اس واقع کو اسلام دشمن عناصر جہاں اور بہت سارے طریقوں سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے وہاں ایک کوشش یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ سلمان تاثیر نے جب توہین رسالت ایکٹ کو کالا قانون کہا تھا تو اس کے بعد جن لوگوں نے اس ضمن میں قلم فرسائی کرتے ہوئے گورنر پنجاب کی شدید مذمّت کی تھی اورملّت پاکستان کو مزاحمت پر ابھارا تھا،ممکن ہے ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں ،ان میں سے کچھ کو جیلوں میں ڈالا جائے ، قلم خریدے جائیں اور مستقبل قریب یا بعید میں حسب ضرورت ان لوگوں کے ذریعہ ملت پاکستان پر فکری یلغارکرائی جائے۔یہ سارے احتمالات اپنی جگہ ٹھوس ومضبوط ہیں لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ احتمالات کی دنیا سے نکل کر حقائق کی وادی میں قدم رکھے جائیں اور اس حقیقت کو محسوس کیا جائے کہ ہمارے حکومتی و سیاسی سسٹم میں اس طرح کا خلا موجود ہے جو اس طرح کے واقعات کا باعث بنتاہے،ہمیں اس سسٹم کو تبدیل کرنے کی فکر کرنی چاہیے جو اس طرح کا ماحول فراہم کرتاہے۔اب" ملک ممتاز حسین قادری " کو غازی کہاجائے یا مجاہد اور سلمان تاثیر کو بے گناہ کہا جائے یا سلمان رشدی،ہمیں القابات سازی میں وقت صرف کرنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ لوگ علماء کرام کے فتووں سے مشتعل ہوکر کسی کو گولی تو مار سکتے ہیں لیکن سسٹم تبدیل نہیں کر سکتے،عشق رسول{ص} ہم سے جس طرح گستاخ رسول کو واصل جہنم کرنے کا تقاضا کرتا ہے اسی طرح قرآن و سنّت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک اسلامی نظام کی تشکیل کابھی مطالبہ کرتا ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ علماء اہلسنت اور اہل تشیع کے نزدیک متفقہ طور پر گستاخ رسول {ص} کی سزاء موت ہے اور اس سلسلے میں موجودہ صدی کا مشہور زمانہ فتوی اہل تشیع کی طرف سے سلمان رشدی کے خلاف امام خمینی کا فتوی ہے ۔ اب گورنر پنجاب کے قتل کے بعد جماعت اہلسنت سے وابستہ پانچ سو سے زائد علماء ومفتیان کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی شخص سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے نہ جائے اور نہ ہی کسی قسم کے افسوس یا ہمدردی کا اظہار کرے اس لئے کہ گستاخ رسول کا حمایتی بھی گستاخ ہے۔ ہمیں یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ علماء کرام کا یہ فتوی محض تھپکی ہے یا اس کا کوئی ہدف بھی ہے۔ یہ بیان اس وقت آب زر سے لکھنے کے قابل ہوتا جب پاکستان میں بسنے والے تمام شیعہ اور سنی علماء کرام یہ فقط فتوی دینے کے بجائے امام خمینی کی طرح اپنے ملک سے باطل نظام کو بھی اکھاڑنے کا اعلان کرتے۔ ہمارے ہاں تو ایک ایسا نظام چل رہاہے جس کے وزیر اعظم کے نزدیک اذان بجتا ہے، جس کے اعلی حکام کو "قل ھواللہ " پڑھنا نہیں آتی، جس کے وزرا کی تعلیمی اسناد جعلی نکلتی ہیں،جس میں چیف آف آرمی سٹاف "صدر" یا وزیراعظم کو "ملک بدر "یا "دربدر" کردیتا ہے،جس میں ۔۔۔ ایسے میں کیا پاکستانی علماء کرام کی ذمہ داری صرف فتوے جاری کرنا، لوگوں کو مشتعل کرنا اور قتل وغارت کا بازار گرم کرنا ہے؟ اگر کرپٹ، بدمعاش اور بے دین لوگ اپنے سیاسی مفادات اورکرسیوں کے چکر میں متحد ہو سکتے ہیں تو کیا ایران کی طرح ہمارے ہاں بھی دینی رہنما اور دینی پارٹیاں اپنے فرعی اختلافات کو فراموش کرکے متحد نہیں ہوسکتیں؟ اگر پولیس کا ایک اہلکار گورنر پنجاب کو گولی مار سکتا ہے تو کیا علماء کرام مل کر اس پورے باطل نظام کو گولی نہیں مارسکتے؟عوام نے تو ہمیشہ علماء کرام کی آواز پر لبّیک کہا ہے اب یہ علماء کرام کی باری ہے کہ وہ آگے بڑھیں، متحد ہوجائیں، اپنے مسلکی و فرعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بیانات داغنے کے بجائے امام خمینی کی طرح اس باطل نظام کو اکھاڑیں۔ ناموس رسالت کو جو تحفظ نظام بدل کر فراہم کیا جاسکتا ہے وہ خون بہاکر ممکن نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110